نئی دہلی، 12/ اکتوبر (ایس او نیوز /ایجنسی )اتوار کو توہین عدالت کا نوٹس جاری ہونے اورسپریم کورٹ کی اس ہدایت کے باوجود کہ دہلی پولیس غیر قانونی گرفتاریوں سے باز رہے اور پرامن مظاہرین کو تحویل میں نہ لیا جائے، اتوار کو بھی پرامن مظاہرین کی گرفتاریوں کا سلسلہ جاری رہا۔ البتہ ان گرفتاریوں کے باوجود حکومت مظاہرین پر خوف طاری کرنے میں ناکام رہی جنہوں نے اتوار کو بھی اس عزم کا اظہار کیا کہ گیانیش کمار کے استعفیٰ اور ایس آئی آر کی منسوخی تک احتجاج کا سلسلہ جاری رہےگا۔
دہلی میں ۱۰؍ اکتوبر کے احتجاج کو روکنے کیلئے غیر معمولی پابندیوں کے خلاف سی پی ایم لیڈر ایم اے بے بی نے سپریم کورٹ سے رجوع کیاتھا۔اس پر سماعت کے بعد سپریم کورٹ نے شہریوں کے احتجاج کو ’’بنیادی حق‘‘ کے طور پر تسلیم کرتے ہوئے مودی سرکار کو ہدایت دی تھی کہ وہ میٹرو ، ٹرین اور انٹرنیٹ کوپوری طرح بند نہ کرے۔ چیف جسٹس نے حکومت کو ’’مکھی مارنے کیلئے ہتھوڑا نہ استعمال کرنے‘‘ کی صلاح دی تھی مگر اس پر عمل نہیں کیاگیا۔ سنیچر کو سپریم کورٹ میں اس کے خلاف توہین عدالت کی پٹیشن داخل ہوئی تھی جس پر اتوار کو چھٹی کے باوجود سماعت کا اہتمام کیاگیا۔
سینئر وکلاء نے عدالت کی خصوصی بنچ کے سامنے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ذمہ دار افراد اور اداروں کے احتساب کا مطالبہ کیا۔سینئر وکلاء نے اس بات کی نشاندہی کی کہ کس طرح سپریم کورٹ کے وکلاء تک کو نہیں بخشا گیا۔اس پرعدالت نے حکومت کوخدمات کو بحال کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے توہین عدالت کی درخواستوں پر نوٹس جاری کیا۔
سینئر وکیل کپل سبل نے سپریم کورٹ پر اپنے اعتماد میں کمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہری حقوق کیلئے بار بار عدالت سے رجوع کرتے کرتے وہ تھک چکے ہیں۔ انہوں نے یہ بات ایک پریس کانفرنس میں کہی۔ سبل نے کہا، ’’میں سپریم کورٹ جا جا کر تھک چکا ہوں۔ میں اپنی ذاتی رائے بیان کر رہا ہوں۔ مجھے نہیں لگتا کہ وہاں جانے کا کوئی فائدہ ہے۔ مجھے سپریم کورٹ آف انڈیا سے اب زیادہ امید نہیں رہی۔‘‘ انہوں نےایس آئی آر کا حوالہ دیا اور کہا کہ عدالت کی جانب سے کوئی راحت نہیں ملی ۔ بہرحال اتوار کو سپریم کورٹ میں شنوائی کے دوران بنچ نے سبل کے مذکورہ بیان کا حوالہ دیا اور کہا کہ عدالت کا مقصد عوام کا اعتماد بحال کرنا ہے۔ کورٹ نے سبل سے کہا کہ ’’آپ کا اعتماد اہم ہے۔‘‘
آئیساکی صدر نیہا بورا، نے اتوار کو دوپہر ڈھائی بجے آر کے آشرم مارگ پر احتجاج کی کال دی تھی۔ پولیس نے احتجاج کو روکنے کیلئے وہاں حفاظتی انتظامات کئے اور مختلف مقامات پر رکاوٹیں کھڑی کیں تاہم نیہا پولیس کو چکمہ دیتے ہوئے اپنے حامیوں کے ساتھ کناٹ پلیس پہنچ گئیں۔ وہاں مظاہرین نے جمع ہوکر جنتر منتر کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی۔پولیس نے انہیں آگے بڑھنے سے روکا اور نیہا سمیت کئی مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔اس دوران پولیس پر دھکا مکی اور بدسلوکی کا الزام بھی عائد ہوا ہے۔