نئی دہلی، 13 مئی (ایس او نیوز) : میڈیکل داخلہ امتحان نیٹ-یو جی 2026 کی منسوخی کے بعد ملک بھر میں شدید ردعمل دیکھنے کو مل رہا ہے۔ نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کے خلاف طلبہ، والدین اور مختلف طلبہ تنظیموں میں غم و غصہ بڑھتا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ منگل کو جیسے ہی این ٹی اے نے امتحان منسوخ کرنے کا اعلان کیا، اُسی دن کانگریس کی طلبہ تنظیم نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا (این ایس یو آئی) نے احتجاج شروع کردیا تھا، جس کے بعد بائیں بازو کی طلبہ تنظیم اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا (ایس ایف آئی) نے بھی این ٹی اے کے خلاف مظاہرے کیے۔ اب بدھ کو بی جے پی کی طلبہ تنظیم اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) بھی سڑکوں پر اُتر آئی ہے اور این ٹی اے دفتر کے باہر احتجاج کرتے ہوئے سخت ناراضگی ظاہر کی ہے۔
منگل کو این ایس یو آئی کارکنان نے نئی دہلی میں شاستری بھون کے باہر احتجاج کرتے ہوئے حکومت اور این ٹی اے کے خلاف نعرے بازی کی تھی۔ مظاہرین نے “پیپر لیک” اور “ایگزام مافیا” کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ بھی کیا تھا۔
اسی طرح مختلف ریاستوں میں دیگر طلبہ تنظیموں اور مقامی طلبہ گروپوں نے بھی نیٹ امتحان کی منسوخی پر شدید احتجاج کیا۔ کیرالا میں مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن (ایم ایس ایف) نے سخت کارروائی اور امتحانی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کیا، جبکہ متعدد شہروں میں عام طلبہ اور والدین بھی سڑکوں پر اُتر آئے اور غصے کا اظہار کیا۔
بدھ کے روز دہلی میں اے بی وی پی کارکنان کے احتجاج کے پیش نظر، اوکھلا انڈسٹریل ایریا میں واقع این ٹی اے دفتر کے اطراف سیکوریٹی سخت کردی گئی تھی۔ اس کے باوجود مظاہرین نے رکاوٹیں عبور کرنے کی کوشش کی اور نعرے بازی کرتے ہوئے امتحانی نظام میں شفافیت اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔
این ٹی اے نے 12 مئی کو نیٹ-یو جی 2026 امتحان منسوخ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ یہ امتحان 3 مئی کو ملک بھر میں منعقد ہوا تھا، جس میں تقریباً 22 سے 23 لاکھ طلبہ شریک ہوئے تھے۔ ایجنسی نے اپنے بیان میں کہا کہ مرکزی ایجنسیوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تحقیقات میں سامنے آنے والی معلومات کے بعد امتحان منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق، راجستھان سمیت کئی ریاستوں میں سوالیہ پرچہ لیک ہونے کے الزامات سامنے آئے تھے۔ بعض میڈیا اداروں نے دعویٰ کیا کہ ایک مبینہ “گس پیپر” امتحان سے قبل گردش کر رہا تھا، جس کے متعدد سوالات اصل امتحان سے مماثلت رکھتے تھے۔ اس کے بعد معاملہ سنگین ہوگیا اور مرکزی حکومت نے کیس کی تحقیقات سی بی آئی کے حوالے کردی۔
اے بی وی پی نے احتجاج کے دوران مطالبہ کیا کہ پورے معاملے کی مقررہ مدت میں شفاف تحقیقات کی جائیں اور امتحانی نظام کو “ایگزام مافیا” سے پاک کیا جائے۔ تنظیم نے کہا کہ لاکھوں طلبہ کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ برداشت نہیں کیا جائے گا۔
دوسری جانب، امتحان کی منسوخی کے بعد طلبہ میں شدید ذہنی دباؤ اور بے یقینی کی کیفیت پائی جا رہی ہے۔ مختلف شہروں سے سامنے آنے والی رپورٹس میں طلبہ نے کہا کہ ایک سال یا اس سے زائد عرصے کی محنت ضائع ہوگئی ہے۔ کوچنگ مراکز اور والدین نے بھی این ٹی اے کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے ہیں۔
کئی ماہرین تعلیم اور میڈیکل تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ ایسے واقعات روکنے کے لیے امتحانی نظام میں بنیادی اصلاحات کی جائیں۔ فیڈریشن آف آل انڈیا میڈیکل اسوسی ایشن نے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ کا نیا امتحان عدالتی نگرانی میں کرایا جائے اور این ٹی اے کی جوابدہی طے کی جائے۔
واضح رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب نیٹ امتحان تنازعات میں گھرا ہو۔ 2024 میں بھی پیپر لیک، گریس مارکس اور غیر معمولی نتائج پر ملک بھر میں احتجاج ہوا تھا، جس کے بعد معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچا تھا۔
اب ملک بھر کے لاکھوں امیدوار نئے امتحانی شیڈول کے اعلان کے منتظر ہیں، جبکہ این ٹی اے نے کہا ہے کہ دوبارہ امتحان کی تاریخیں اور نئے ایڈمٹ کارڈس جلد جاری کیے جائیں گے۔