ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / تھلاپتی وجئے نے فلور ٹیسٹ جیت کر مچا دیا سیاسی بھونچال؛ بی جے پی کو بڑا جھٹکا، اے آئی اے ڈی ایم کے میں بغاوت

تھلاپتی وجئے نے فلور ٹیسٹ جیت کر مچا دیا سیاسی بھونچال؛ بی جے پی کو بڑا جھٹکا، اے آئی اے ڈی ایم کے میں بغاوت

Wed, 13 May 2026 23:29:03    S O News
تھلاپتی وجئے نے فلور ٹیسٹ جیت کر مچا دیا سیاسی بھونچال؛ بی جے پی کو بڑا جھٹکا، اے آئی اے ڈی ایم کے میں بغاوت

چینائی 13/مئی (ایس او نیوز) تمل ناڈو اسمبلی میں فلور ٹیسٹ کے دوران فلم اسٹار سے سیاستدان بننے والے تھلاپتی وجئے نے سیاسی بھونچال مچاتے ہوئے ایک طرف جیت درج کردی تو وہیں دوسری طرف بی جے پی کی حمایت کرنے والی All India Anna Dravida Munnetra Kazhagam (اے آئی اے ڈی ایم کے) کے بھی کئی اراکین کو بھی اپنے حق میں کرکے بی جے پی کے ہوش ٹھکانے لگادئے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق، فلور ٹیسٹ میں اے آئی اے ڈی ایم کے کے تقریباً 24 ارکان نے پارٹی لائن کے خلاف جاکر وجئے  کی قیادت والی حکومت کے حق میں ووٹ دیا، جس کے بعد پارٹی کے اندر بغاوت اور ممکنہ ٹوٹ پھوٹ کی خبریں تیزی سے سامنے آنے لگیں ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق، یہی وہ نکتہ ہے جس نے اس پورے معاملے کو معمول کے فلور ٹیسٹ سے کہیں زیادہ اہم بنا دیا۔ کیونکہ اے آئی اے ڈی ایم کے کو طویل عرصے سے تمل ناڈو میں بی جے پی کے ممکنہ اتحادی اور “سیاسی دروازے” کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے، لیکن پارٹی کے اندر اتنی بڑی بغاوت نے بی جے پی کی حکمت عملی پر بھی سوال کھڑے کردیے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق، اے آئی اے ڈی ایم کے کے کئی ناراض اراکین پہلے ہی پارٹی قیادت، خاص طور پر ای کے پلانی سوامی کی پالیسیوں سے ناخوش تھے۔ ان اراکین کا الزام تھا کہ پارٹی اپنی اصل دراوڑی شناخت کھوتی جارہی ہے اور بی جے پی کے زیادہ قریب ہونے کی وجہ سے روایتی ووٹ بینک دور ہورہا ہے۔ یہی وجہ رہی کہ فلور ٹیسٹ کے دوران کئی اراکین نے کھل کر پارٹی وہپ کی خلاف ورزی کی۔

کئی میڈیا رپورٹوں میں دعویٰ کیا گیا کہ فلور ٹیسٹ سے چند گھنٹے قبل تک اے آئی اے ڈی ایم کے کے اندر مسلسل میٹنگیں چلتی رہیں، مگر قیادت اپنے ارکان کو متحد رکھنے میں ناکام رہی۔ بعض رپورٹس میں یہاں تک کہا گیا کہ پارٹی کے اندر ایک الگ گروپ بننے کے آثار پیدا ہوگئے ہیں، جو مستقبل میں نئی سیاسی صف بندی کرسکتا ہے۔
سیاسی تجزیہ نگار اس صورتحال کو بی جے پی کیلئے “440 وولٹیج کا جھٹکا” قرار دے رہے ہیں کیونکہ جنوبی ہند، خاص طور پر تمل ناڈو میں، بی جے پی ابھی تک اپنے بل بوتے پر مضبوط عوامی بنیاد قائم نہیں کرسکی ہے۔ ایسے میں اگر اس کی قریبی سمجھی جانے والی جماعت ہی اندرونی بغاوت کا شکار ہوجائے تو اس کا براہ راست اثر قومی سیاست پر بھی پڑ سکتا ہے۔

دوسری طرف، وجئے کی پارٹی ٹی وی کے نے اس صورتحال سے بھرپور سیاسی فائدہ اٹھایا۔ وجئے نے خود کو “تمل شناخت” اور “نئی سیاست” کے نمائندے کے طور پر پیش کیا، جس کا اثر نوجوان ووٹروں اور غیر جانبدار ارکان پر واضح طور پر دیکھا گیا۔ فلور ٹیسٹ کے بعد ان کے حامیوں نے اسے “دراوڑی سیاست کی نئی واپسی” قرار دیا جبکہ سوشل میڈیا پر بی جے پی مخالف حلقوں میں زبردست جشن منایا گیا۔


Share: