ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / سپریم کورٹ کا الیکشن کمیشن کو سخت پیغام، یکطرفہ فیصلے ثابت ہوئے تو روک لگانے کا اشارہ

سپریم کورٹ کا الیکشن کمیشن کو سخت پیغام، یکطرفہ فیصلے ثابت ہوئے تو روک لگانے کا اشارہ

Tue, 06 Oct 2026 00:45:21    S O News
سپریم کورٹ کا الیکشن کمیشن کو سخت پیغام، یکطرفہ فیصلے ثابت ہوئے تو روک لگانے کا اشارہ

نئی دہلی، 5 اکتوبر (ایس او نیوز):چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی سربراہی میں الیکشن کمیشن کی جانب سے مبینہ طور پر دیگر دو الیکشن کمشنروں کی منظوری کے بغیر فیصلے لینے کے معاملے میں سپریم کورٹ نے پیر کو الیکشن کمیشن اور مرکزی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے واضح کیا کہ اگر ریکارڈ سے یہ ثابت ہوا کہ کمیشن کے فیصلے قانونی طریقہ کار کے برخلاف لیے گئے ہیں تو عدالت ان فیصلوں پر روک لگا سکتی ہے اور انہیں کالعدم قرار دے سکتی ہے۔

چیف جسٹس آف انڈیا سوریا کانت کی سربراہی میں جسٹس جویملیہ باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل تین رکنی بنچ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو قانون کے مطابق کام کرنا ہوگا اور عدالت پہلے یہ جاننا چاہتی ہے کہ متنازع فیصلے متفقہ طور پر لیے گئے، اکثریتی فیصلے تھے یا صرف چیف الیکشن کمشنر کی سطح پر کیے گئے۔

یہ معاملہ ان الزامات سے متعلق ہے کہ الیکشن کمیشن کے تین رکنی ڈھانچے میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے بعض اہم فیصلے دیگر دو الیکشن کمشنروں، سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی، کی منظوری یا اتفاق رائے کے بغیر کیے۔ عدالت نے فی الحال گیانیش کمار کو معطل کرنے یا ان کے اختیارات روکنے کا عبوری حکم دینے سے انکار کیا اور کہا کہ صرف اخباری رپورٹوں کی بنیاد پر کوئی حکم نہیں دیا جاسکتا؛ پہلے الیکشن کمیشن اور متعلقہ فریقین کا جواب اور اصل ریکارڈ عدالت کے سامنے آنا ضروری ہے۔ عدالت نے الیکشن کمیشن، مرکز، گیانیش کمار، سندھو اور جوشی سمیت دیگر متعلقہ عہدیداروں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ایک ہفتے میں جواب طلب کیا ہے۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس سوریا کانت نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے قانون کے مطابق ہونے چاہئیں، جبکہ جسٹس جویملیہ باگچی نے واضح کیا کہ اگر ریکارڈ سے معلوم ہوا کہ بعض فیصلے نہ تو متفقہ تھے اور نہ ہی اکثریت سے منظور کیے گئے تھے تو عدالت ان فیصلوں پر روک لگاتے ہوئے انہیں قانونی اختیار سے باہر قرار دے سکتی ہے۔ عدالت نے اس مرحلے پر یہ ماننے سے گریز کیا کہ تمام متنازع فیصلے یکطرفہ طور پر ہی لیے گئے تھے اور کہا کہ پہلے متعلقہ اداروں کا جواب حاصل کیا جائے گا۔

تنازع کی بنیاد انڈین ایکسپریس کی 23 ستمبر کی ایک تفصیلی تحقیقاتی رپورٹ ہے، جس کے مطابق الیکشن کمشنروں سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے گزشتہ تقریباً دس ماہ کے دوران کم از کم 14 مرتبہ ریکارڈ پر اعتراضات درج کیے۔ یہ اعتراضات 28 اکتوبر 2025 سے 14 اگست 2026 کے درمیان مختلف معاملات پر کیے گئے اور بعض مواقع پر ایک ہی دن میں چار اعتراضات درج ہوئے۔ دونوں کمشنروں نے الزام عائد کیا کہ ووٹروں کے اندراج، نام حذف کرنے اور بحال کرنے، ووٹر فہرستوں سے متعلق اپیلیں دائر کرنے اور انتخابی ڈیٹا بیس کے انتظام جیسے اہم معاملات میں ایسے فیصلے کیے گئے جن کے بارے میں انہیں پیشگی اطلاع یا منظوری حاصل نہیں تھی۔

رپورٹ کے مطابق اختلافات کا ایک اہم معاملہ فارم نمبر 6 میں تبدیلی تھا۔ جولائی 2026 میں نئے ووٹر کے اندراج کے لیے استعمال ہونے والے فارم نمبر 6 میں ایسا سوال شامل کیا گیا جس میں درخواست گزار سے پوچھا جاتا تھا کہ آیا وہ، اس کے والدین یا دادا دادی سابقہ خصوصی نظرثانی (SIR) کی ووٹر فہرست میں موجود تھے۔ الیکشن کمشنر وویک جوشی نے مئی میں ریکارڈ پر اعتراض کرتے ہوئے کہا تھا کہ قواعد میں باضابطہ ترمیم کے بغیر فارم نمبر 6 میں اس طرح تبدیلی نہیں کی جاسکتی، جبکہ سکھبیر سنگھ سندھو نے بھی اس موقف سے اتفاق کیا تھا۔ اس کے باوجود تبدیلی نافذ کی گئی۔ بعد میں 13 اگست کو سندھو نے اس تبدیلی کو ’’غیر مجاز اور غیر قانونی‘‘ قرار دیتے ہوئے اسے فوری طور پر ہٹانے کی ہدایت دی تھی۔

فارم نمبر 6 کا معاملہ پیر کی سپریم کورٹ سماعت میں بھی خاص طور پر سامنے آیا۔ چیف جسٹس سوریا کانت نے واضح کیا کہ سپریم کورٹ نے فارم نمبر 6 میں کی گئی کسی بھی ترمیم کو منظوری نہیں دی تھی اور کہا کہ الیکشن کمیشن کا ریکارڈ پیش کیے جانے کے بعد عدالت یہ دیکھنا چاہے گی کہ فارم میں تبدیلی کس نے اور کس اختیار کے تحت کی۔ یہ وضاحت اس وقت سامنے آئی جب الیکشن کمیشن نے ایک سابقہ بیان میں کہا تھا کہ SIR کے دوران فارم نمبر 6 کے ساتھ منسلک اضافی اعلامیہ کو سپریم کورٹ کی جانب سے برقرار رکھا گیا تھا۔ الیکشن کمیشن نے بعد میں وضاحت کی کہ اس کا حوالہ 27 مئی 2026 کے بہار SIR سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے سے تھا۔

الیکشن کمیشن کے اندرونی اختلافات کا دوسرا اہم پہلو ووٹر ڈیٹا بیس تک رسائی اور اس کے انتظام سے متعلق ہے۔ انڈین ایکسپریس کے مطابق وویک جوشی نے ووٹر فہرست کے ڈیٹا بیس کو بتدریج مرکزی سطح پر منتقل کیے جانے پر اعتراض کیا اور کہا کہ اس بات کا آڈٹ ہونا چاہیے کہ قانونی طور پر مجاز عہدیداروں کے علاوہ کسی کو ووٹر ڈیٹا میں تبدیلی کی رسائی حاصل نہ ہو۔ سکھبیر سنگھ سندھو نے بھی بعض ریاستی حکام کی جانب سے ERONet تک مکمل رسائی نہ ہونے کی شکایات کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ الیکشن کمیشن کے ڈائریکٹر جنرل آئی ٹی کو قانونی طور پر ریاستی سطح کے مجاز عہدیداروں کی رسائی محدود کرنے کا اختیار حاصل ہے یا نہیں۔

مغربی بنگال میں بھی ووٹر فہرست سے متعلق اپیلوں کے معاملے پر اعتراض سامنے آیا۔ رپورٹ کے مطابق وہاں SIR کے دوران حذف کیے گئے ووٹروں سے متعلق عدالتی عمل کے بعد بعض ووٹرز کے نام بحال کیے گئے، جبکہ الیکشن کمیشن کی جانب سے ایسے بحال شدہ ووٹروں کے خلاف 16.10 لاکھ اپیلیں دائر کی گئیں۔ سندھو نے اگست میں کمیشن کے حکام سے پوچھا تھا کہ یہ اپیلیں الیکشن کمیشن کی جانب سے کس نے اور کس کی اجازت سے دائر کیں، اور کہا تھا کہ نہ انہیں، نہ وویک جوشی کو اور نہ ہی مغربی بنگال کے چیف الیکٹورل افسر کو اس عمل کی بنیاد یا طریقہ کار سے آگاہ کیا گیا تھا۔

گوا میں سافٹ ویئر سے متعلق معاملہ بھی دونوں الیکشن کمشنروں کے اعتراضات میں شامل تھا۔ انڈین ایکسپریس کے مطابق 97 ایسے ووٹرز کو مقامی الیکٹورل رجسٹریشن افسران نے دستاویزات کی جانچ کے بعد ووٹر فہرست میں شامل کیے جانے کے لیے اہل قرار  دیا، لیکن سافٹ ویئر میں ان فیصلوں کو درج یا پہلے کی حذف شدگی واپس لینے کا مناسب آپشن موجود نہیں تھا۔ ریاستی انتخابی حکام نے فروری میں اس مسئلے کے حل کے لیے متعدد مرتبہ رابطہ کیا، لیکن مقررہ وقت تک مطلوبہ سہولت فعال نہ ہونے کے باعث یہ 97 نام حتمی فہرست میں شامل نہیں ہوسکے۔

قانونی طور پر اس تنازع کا مرکزی نکتہ  چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنروں سے متعلق 2023 کے قانون کی دفعہ 18 ہے۔ اس دفعہ کے مطابق الیکشن کمیشن کا کام جہاں تک ممکن ہو اتفاق رائے سے انجام دیا جانا چاہیے، تاہم اگر ارکان کے درمیان اختلاف ہو تو معاملہ اکثریتی رائے سے طے کیا جاسکتا ہے۔ انڈین ایکسپریس کے مطابق کمیشن کے دونوں ارکان نے اپنے اعتراضات میں اسی قانونی تقاضے کا حوالہ دیا تھا اور بعض مواقع پر حکام کو یاد دلایا تھا کہ کمیشن کے نام سے جاری ہونے والی مواصلات کے لیے کمیشن کی منظوری ضروری ہے۔

سپریم کورٹ میں زیر سماعت معاملے میں درخواست گزاروں نے گیانیش کمار کے خلاف کارروائی، کمیشن کے اندر مبینہ طور پر یکطرفہ طور پر لیے گئے فیصلوں کی قانونی حیثیت جانچنے اور خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) کے ذریعے تحقیقات سمیت مختلف مطالبات کیے ہیں۔ ایک درخواست میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ گیانیش کمار کی مدت میں مکمل کمیشن کی منظوری کے بغیر کیے گئے فیصلوں، ہدایات اور سافٹ ویئر میں کی گئی تبدیلیوں کو غیر قانونی قرار دیا جائے۔

پیر کی سماعت میں سپریم کورٹ نے اس مرحلے پر گیانیش کمار کے خلاف کوئی حتمی فیصلہ نہیں دیا، تاہم عدالت نے یہ واضح کردیا کہ اگر الیکشن کمیشن کے ریکارڈ سے یہ ثابت ہوا کہ قانون میں مقررہ متفقہ یا اکثریتی طریقہ کار پر عمل نہیں کیا گیا تو عدالت متعلقہ فیصلوں کے نفاذ کو روکنے اور انہیں قانونی اختیار سے باہر قرار دینے کے اپنے اختیارات استعمال کرسکتی ہے۔ معاملے کی اگلی سماعت آئندہ ہفتے متوقع ہے۔
 


Share: