منڈگوڈ، 11 مئی (ایس او نیوز): اترکنڑا ضلع کے منڈگوڈ تعلقہ کی چَوڈلّی گرام پنچایت حدود میں واقع کرولّی گاؤں گزشتہ تین ماہ سے شدید پانی بحران کا شکار ہے۔ مقامی افراد کا الزام ہے کہ گاؤں کے بورویل مکمل طور پر خشک ہوچکے ہیں اور ایک قطرہ پانی بھی دستیاب نہیں، لیکن اس کے باوجود پنچایت حکام اور متعلقہ افسران صورتحال کی سنگینی کے باوجود خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔
دیہاتیوں کے مطابق پنچایت کی جانب سے روزانہ پانی کے ٹینکر روانہ کیے جانے چاہیے تھے، مگر چَوڈلّی پنچایت کے پی ڈی او کی مبینہ لاپروائی کے باعث ہفتے میں صرف ایک مرتبہ ایک ٹینکر بھیجا جاتا ہے، جس میں ہر گھر کو محض دس گھڑے پانی فراہم کیا جاتا ہے۔ گاؤں والوں نے سوال اٹھایا کہ آخر صرف دس گھڑے پانی سے ایک خاندان پورا ہفتہ کیسے گزار سکتا ہے۔
پانی کی قلت سے پریشان خواتین نے میڈیا نمائندوں کے سامنے سڑک پر گھڑے رکھ کر احتجاج کیا اور اپنی بے بسی بیان کرتے ہوئے کہا کہ انہی دس گھڑوں کے پانی سے پینے، کھانا پکانے، برتن دھونے اور کپڑے صاف کرنے جیسے تمام روزمرہ کے کام انجام دینا پڑتے ہیں، جو انتہائی دشوار ہوچکا ہے۔
مظاہرین نے بتایا کہ گاؤں کا واحد تالاب بھی خشک ہوچکا ہے، جبکہ بعض کسانوں کے کھیتوں سے منت سماجت کے بعد ایک دو گھڑے پانی حاصل کرنا پڑتا ہے۔ تاہم کسان بھی بار بار پانی لینے آنے سے منع کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کی ادرک اور دیگر فصلیں بھی پانی کی شدید قلت سے متاثر ہورہی ہیں۔ خواتین نے آبدیدہ ہوتے ہوئے بتایا کہ پانی کی عدم دستیابی کے باعث انہیں گزشتہ 15 سے 20 دنوں سے نہانے جیسی بنیادی ضرورت سے بھی محروم رہنا پڑ رہا ہے۔
گاؤں میں پانی بحران اور ہفتہ وار صرف دس گھڑے پانی کی فراہمی کا معاملہ جب ضلع پنچایت کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر (سی ای او) کے علم میں لایا گیا تو انہوں نے دریافت کیا کہ کرولّی گاؤں کس پنچایت کے تحت آتا ہے۔ چَوڈلّی پنچایت کا نام بتائے جانے کے بعد فون منقطع ہوگیا۔ تاہم دیہاتیوں کو امید ہے کہ میڈیا کے ذریعے معاملہ منظر عام پر آنے کے بعد ضلعی انتظامیہ صورتحال کی سنگینی کو محسوس کرتے ہوئے فوری اقدامات کرے گی اور گاؤں کو مناسب مقدار میں پانی کی فراہمی یقینی بنائے گی۔