ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / پولیس اہلکاروں کی قربانیوں کا کوئی مول نہیں، حکومت شہداء کے اہل خانہ کے ساتھ ہمیشہ کھڑی رہے گی: ڈی کے شیوکمار

پولیس اہلکاروں کی قربانیوں کا کوئی مول نہیں، حکومت شہداء کے اہل خانہ کے ساتھ ہمیشہ کھڑی رہے گی: ڈی کے شیوکمار

Thu, 22 Oct 2026 11:33:55    S O News
پولیس اہلکاروں کی قربانیوں کا کوئی مول نہیں، حکومت شہداء کے اہل خانہ کے ساتھ ہمیشہ کھڑی رہے گی: ڈی کے شیوکمار

بنگلورو، 22 /اکتوبر (ایس او نیوز / ایجنسی) وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ عوام کے امن و سکون کے لیے اپنی زندگیاں وقف کرنے والے پولیس اہلکاروں کی خدمات اور قربانیوں کا کوئی مول نہیں لگایا جاسکتا۔ شہید پولیس اہلکاروں کی قربانیوں کو یاد کرنے کے ساتھ ان کے فرض شناسی، نظم و ضبط اور عوامی خدمت کے جذبے کو اپنانا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔ حکومت شہداء کے اہل خانہ کے ساتھ ہمیشہ کھڑی رہے گی۔

وہ میسور روڈ پر واقع آرمڈ ریزرو فورس کے ہیڈکوارٹر میدان میں منعقدہ پولیس یادگاری دن کی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ اس موقع پر انہوں نے شہداء کی یادگار پر پھول پیش کرکے خراج عقیدت ادا کیا اور ریاست کے چھ شہید پولیس اہلکاروں کی خدمات کو یاد کیا۔

ڈی کے شیوکمار نے بتایا کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران محکمہ پولیس میں 5,911 عہدوں پر بھرتی کی گئی ہے، جبکہ مزید 7,925 خالی آسامیوں کو پُر کرنے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔ پولیس بھرتی کے عمل کو آسان اور مؤثر بنانے کے لیے مستقل بھرتی بورڈ کے قیام پر بھی کام کیا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پولیس محکمہ کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرنے کے لیے تقریباً 142 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، تاکہ جرائم کی تفتیش، شواہد کے تحفظ اور جرائم پر قابو پانے کی صلاحیت کو مزید بہتر بنایا جاسکے۔ پولیس اہلکاروں کی رہائش اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی بھی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ پولیس گِرہا 2025 پروگرام کے تحت رہائشی عمارتوں اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی پر توجہ دی جارہی ہے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پولیس کی خاکی وردی بہادری، اعتماد اور انصاف کی علامت ہے۔ پولیس اہلکاروں کو مجرموں کے لیے سخت چیلنج بننے کے ساتھ کمزور اور بے سہارا افراد کے لیے تحفظ اور اعتماد کا ذریعہ بھی بننا چاہیے۔ قانون نافذ کرنا ہی نہیں بلکہ سماج میں اصلاح، امن اور ہم آہنگی کو فروغ دینا بھی پولیس کی اہم ذمہ داری ہے۔

انہوں نے کرناٹک پولیس کی نظم و ضبط، فرض شناسی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی پولیس نے اپنی کارکردگی سے قومی سطح پر وقار حاصل کیا ہے۔ منشیات کے پھیلاؤ پر قابو پانے، فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقرار رکھنے، ٹریفک نظام کو بہتر بنانے اور جرائم کی روک تھام کے لیے خصوصی اقدامات کیے جارہے ہیں۔

بنگلورو میں بڑھتی ہوئی آبادی اور گاڑیوں کی تعداد کو ٹریفک پولیس کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شہر کی آبادی تقریباً ایک کروڑ چالیس لاکھ اور گاڑیوں کی تعداد ایک کروڑ اکتیس لاکھ کے قریب ہے۔ سڑکوں کی محدود گنجائش کے باوجود پولیس اہلکار ٹریفک کو رواں رکھنے کے لیے مسلسل محنت کررہے ہیں۔ انہوں نے ان کی خدمات کی ستائش کرتے ہوئے جرائم پیشہ عناصر اور غنڈہ گردی پر قابو پانے کے لیے مزید مؤثر حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

ڈی کے شیوکمار نے پولیس اہلکاروں سے اپیل کی کہ وہ اپنے فرائض سے وابستگی اور عوامی خدمت کے جذبے کو کبھی کمزور نہ ہونے دیں، نئی ٹیکنالوجی اور بدلتے ہوئے چیلنجوں سے ہم آہنگ ہونے کے لیے اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کریں اور بلا امتیاز تمام شہریوں کے ساتھ یکساں رویہ اختیار کریں۔

انہوں نے کہا کہ جس طرح سرحدوں پر فوجی ملک کی حفاظت کرتے ہیں، اسی طرح ریاست میں امن و امان برقرار رکھنے کی ذمہ داری پولیس ادا کرتی ہے۔ شہید اہلکاروں کی قربانیوں کو محض یاد کرنا کافی نہیں، بلکہ ان کے اصولوں اور خدمت کے جذبے کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنانا ضروری ہے۔ حکومت پولیس اہلکاروں، ان کے خاندانوں اور ریٹائرڈ افسران کی خدمات اور فلاح و بہبود کے لیے بھی اقدامات جاری رکھے گی۔


Share: