بنگلورو، 23 اکتوبر (ایس او نیوز): کرناٹک میں ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (SIR) کے دوران ووٹروں کے نام حذف کرانے یا اندراج پر اعتراض کے لیے استعمال ہونے والے فارم 7 کی تعداد میں نمایاں اضافہ درج کیا گیا ہے۔ اطلاع کے مطابق، 23 ستمبر کو دعووں اور اعتراضات کی مقررہ آخری تاریخ پر ایسے فارموں کی تعداد 58,475 تھی، جو 22 اکتوبر تک بڑھ کر 2,28,917 ہوگئی۔ اس اضافے نے ریاست میں ووٹر لسٹ کی نظرثانی، اعتراضات کے طریقۂ کار اور اہل ووٹروں کے حقِ رائے دہی کے تحفظ سے متعلق سوالات کو دوبارہ نمایاں کردیا ہے۔
ریاست میں SIR کا عمل 20 جون سے جاری تھا۔ 24 اگست کو مسودہ ووٹر لسٹ شائع کی گئی، جس کے بعد دعوے اور اعتراضات داخل کرنے کے لیے 23 ستمبر تک کا وقت دیا گیا۔ اب الیکشن حکام نے حتمی ووٹر لسٹ 27 اکتوبر کو شائع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
فارم 7 کی تعداد میں تقریباً چار گنا اضافہ:
ذرائع کے مطابق، 22 اکتوبر تک بنگلورو اربن میں فارم 7 کی سب سے زیادہ 24,268 درخواستیں موصول ہوئیں۔ اس کے بعد بی بی ایم پی ساؤتھ میں 19,662 اور بی بی ایم پی نارتھ میں 18,659 درخواستیں درج کی گئیں۔ بنگلورو سے باہر اضلاع میں جنوبی کنڑا 10,496 درخواستوں کے ساتھ نمایاں رہا۔
فارم 7 کے ذریعے ووٹر لسٹ میں کسی نام کے اندراج پر اعتراض کیا جاسکتا ہے یا کسی موجودہ نام کو حذف کرنے کی درخواست دی جاسکتی ہے۔ اس لیے درخواستوں کی تعداد میں اضافہ اس بات کو اہم بناتا ہے کہ ان درخواستوں کی بنیاد کیا تھی، کس نوعیت کے اعتراضات درج ہوئے اور ان کے نتیجے میں ووٹر لسٹ میں کیا تبدیلیاں کی گئیں۔
مسلم ووٹروں کے نام حذف کرانے کی شکایات:
کرناٹک میں فارم 7 کے استعمال سے متعلق تنازع اکتوبر کے آغاز میں اس وقت شدت اختیار کرگیا تھا جب بعض حلقوں میں بڑی تعداد میں ایسے فارم داخل کیے گئے جن کے ذریعے مسلم ووٹروں کے نام حذف کرانے کی درخواست کی گئی تھی۔ ریاست میں ایسے 4,000 سے زیادہ فارموں کا معاملہ سامنے آیا تھا اور ان میں اکثریت مسلم ووٹروں سے متعلق بتائی گئی تھی۔
وجئے پورہ ضلع کے بابلیشور اسمبلی حلقے میں 22 ستمبر کو 1,373 فارم 7 داخل کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق، ان میں سے 1,363 درخواستیں صرف 10 افراد نے جمع کرائی تھیں۔ کئی درخواستوں میں ووٹروں کی تفصیلات پہلے سے پرنٹ تھیں اور اعتراض کرنے والوں کے نام ہاتھ سے لکھے گئے تھے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ متعدد درخواستیں ایسے پولنگ اسٹیشنوں کے ووٹروں کے خلاف تھیں جہاں خود درخواست گزاروں کا اندراج نہیں تھا۔
بیدر ضلع کے بھالکی اسمبلی حلقے میں بھی 23 ستمبر کو 30 افراد کی جانب سے 1,700 سے زیادہ ووٹروں کے نام حذف کرانے کی درخواستیں داخل کیے جانے کی اطلاع دی گئی۔ ان واقعات نے اس سوال کو نمایاں کیا کہ بڑی تعداد میں جمع کرائے گئے اعتراضات کی جانچ کس طرح کی گئی اور ان کے خلاف کارروائی کا طریقۂ کار کیا تھا۔
دکشن کنڑا ضلع کے بیلتھنگڈی حلقے کے اجیرے علاقے میں بھی مسلم ووٹروں کے نام حذف کرانے کے لیے فارم داخل کیے جانے کی شکایات سامنے آئیں۔ اطلاع کے مطابق، اجیرے میں 82 مسلم ووٹروں کے نام حذف کرنے کی درخواستیں داخل کی گئی تھیں۔ بعض متاثرہ ووٹروں نے بتایا کہ انہیں اپنے ناموں کے خلاف درخواستوں کا علم اس وقت ہوا جب بوتھ لیول افسر نے ان سے اضافی دستاویزات طلب کیں۔
میسور: سابق کارپوریٹر سید حسرت اللہ نے الزام لگایا کہ ان کے اور ان کے خاندان کے افراد سمیت مسلم برادری کے ووٹروں کے نام حذف کرانے کی کوشش کی گئی۔ شکایت میں متعدد افراد کے خلاف الزامات درج کیے گئے۔
بھالکی، بیدر: محمد عتیق احمد کی شکایت کے مطابق، 21 سے 23 ستمبر کے درمیان 3,244 ووٹروں کے نام حذف کرانے کے لیے درخواستیں داخل کی گئی تھیں۔
بیلگاوی: بوتھ لیول ایجنٹ میراساب عبدالصنادی نے الزام لگایا کہ جعلی دستاویزات کے ذریعے 198 ووٹروں کے نام حذف کرانے کی کوشش کی گئی۔
اس سے قبل کرناٹک ہائی کورٹ نے ملیشورم اسمبلی حلقے میں 778 اور 136 ووٹروں کے خلاف فارم 7 داخل کیے جانے کے معاملے میں دو بی جے پی بوتھ لیول ایجنٹوں کے خلاف درج ایف آئی آر پر عبوری روک لگادی تھی۔ درخواست گزاروں نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ وہ انتخابی نظرثانی کے ضابطوں کے تحت کام کررہے تھے اور پولیس کارروائی قانونی طریقۂ کار کے مطابق نہیں تھی۔
کرناٹک حکومت کا احتجاج اور تحقیقات کا مطالبہ:
فارم 7 کے مبینہ اجتماعی استعمال پر کرناٹک میں حکمراں کانگریس نے بھی احتجاج کیا۔ وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے کابینی ساتھیوں کے ساتھ چیف الیکٹورل آفیسر کے دفتر کے سامنے احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ اہل ووٹروں کے نام حذف کرانے کی مبینہ کوششوں کی تحقیقات کی جائیں۔
شیوکمار نے الزام لگایا کہ بعض حلقوں میں بڑی تعداد میں پہلے سے پرنٹ شدہ فارم تقسیم کیے گئے تھے۔ انہوں نے بیلاری، وجئے پورہ، بیلگاوی، میسور اور بیدر سمیت مختلف علاقوں میں سامنے آنے والے واقعات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ چیف الیکٹورل آفیسر وی انبّوکمار نے اس معاملے میں تحقیقات کے بعد قانون کے مطابق کارروائی کیے جانے کی بات کہی تھی۔
مسودہ ووٹر لسٹ سے تقریباً 1.08 کروڑ نام غائب:
اطلاع کے مطابق SIR کی ابتدائی گنتی کے دوران کرناٹک کی ووٹر لسٹ میں درج تقریباً 5.54 کروڑ ووٹروں کے مقابلے میں 24 اگست کو جاری مسودہ فہرست میں صرف 4.46 کروڑ نام شامل تھے۔ اس طرح تقریباً 1.08 کروڑ ووٹروں کے نام مسودہ فہرست میں شامل نہیں تھے۔
ذرائع کے مطابق، 16 جون سے 22 اکتوبر کے درمیان ووٹر لسٹ سے متعلق مختلف اقسام کی مجموعی طور پر 25,87,461 درخواستیں موصول ہوئیں۔ ان میں نئے اندراج، بیرون ملک مقیم ہندوستانی ووٹروں کے اندراج، نام حذف کرنے پر اعتراضات اور موجودہ تفصیلات میں تبدیلی کی درخواستیں شامل ہیں۔
ریاست میں SIR کے تحت 43,82,824 نوٹسوں پر سماعت مکمل ہونے کی اطلاع دی گئی ہے۔ اب حتمی ووٹر لسٹ 27 اکتوبر کو شائع کی جائے گی۔ فارم 7 کی درخواستوں میں اضافے اور مختلف حلقوں میں سامنے آنے والی شکایات کے پس منظر میں حتمی فہرست کے اعداد و شمار اہم ہوں گے، خصوصاً یہ کہ کتنے نئے ووٹر شامل ہوئے، کتنے نام حذف ہوئے اور کن حلقوں میں سب سے زیادہ تبدیلیاں درج کی گئیں۔