کولکاتہ ، 9/ مئی (ایس اونیوز /ایجنسی)مغربی بنگال میں ہفتے کو بی جے پی لیڈر سویندو ادھیکاری کے وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف برداری کے ساتھ ہی ریاست کی سیاست میں آئی تبدیلی کے دوران اب ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کی سربراہ ممتا بنرجی کے حوالے سے بھی بحث تیز ہو گئی ہے۔ دراصل اسمبلی انتخابات کے نتائج کا اعلان ہونے کے بعد بھی ممتا بنرجی نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ کے بائیو میں خود کو مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ بتایا ہوا تھا۔ ان کے بایو میں اب بھی لکھا ہوا ہے کہ وہ ترنمول کانگریس کی بانی اور مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ہیں تاہم نئے وزیراعلیٰ کی حلف برداری کی تقریب کے بعد ممتا بنرجی نے اپنے بائیو سے ’سی ایم‘ والی لائن کو ہٹا دیا ہے۔
ریاست کے حالیہ انتخابات میں شکست کے بعد سے ممتا بنرجی مسلسل انتخابی عمل پر سوال اٹھا رہی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی اور انہیں ہرانے کی سازش رچی گئی۔ ممتا بنرجی لگاتار بی جے پی کو نشانہ بنا رہی ہیں اور دعویٰ کررہی ہیں کہ الیکشن منصفانہ طریقے سے نہیں کرایا گیا۔ حالانکہ ان الزامات پر الیکشن کمیشن کی جانب سے اب تک کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
گزشتہ کئی روز سے ریاست کی سیاست میں جاری ہنگامہ آرائی کے دوران جہاں بی جے پی انتخابات کو بنگال میں ایک نئے سیاسی دور کی شروعات بتارہی ہے وہیں ترنمول کانگریس کے رہنما انتخابی عمل کی شفافیت پر سنگین سوالات اٹھارہے ہیں۔ اس دوران ترنمول کانگریس کے قومی جنرل سکریٹری ابھیشیک بنرجی نے اسمبلی انتخابات کے نتائج کے بعد الیکشن کمیشن، سرکاری ایجنسیوں اور انتخابی عمل کے منصفانہ ہونے پر سوال اٹھائے ہیں۔ ابھیشیک بنرجی نے دعویٰ کیا کہ اس الیکشن میں تقریباً 30 لاکھ حقیقی رائے دہندگان کو مبینہ طور پر ووٹر لسٹ سے باہر کر دیا گیا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ پورے الیکشن کے دوران کئی سرکاری ایجنسیوں اور الیکشن کمیشن کا رویہ جانبدارانہ نظر آیا۔ انہوں نے کہا کہ جن جمہوری اداروں کو غیر جانبدارطریقے سے کام کرنا چاہیے تھا، ان کے کردار سے انتخابات کی منصفانہ، معتبریت اور شفافیت پر سنگین سوالات کھڑے ہوئے ہیں۔
ابھیشیک بنرجی نے کہا کہ ووٹوں کی گنتی کے عمل سے لے کر ای وی ایم کی ہینڈلنگ اور نقل و حرکت تک کئی واقعات سامنے آئے جن سے لوگوں کے ذہنوں میں شکوک و شبہات پیدا ہوئے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ کنٹرول یونٹس کے درمیان مماثلت نہیں ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ گنتی کے مراکز کے سی سی ٹی وی فوٹیج کو عام کیا جائے اور وی وی پی اے ٹی سلپس کی شفاف طریقے سے گنتی کی جائے، تاکہ عوام کے سامنے حقیقت آشکار ہو سکے اور تمام شکوک و شبہات کو دور کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت تب ہی مضبوط رہ سکتی ہے جب انتخابی اداروں پر عوام کا اعتماد برقرار رہے ۔ لیکن اس الیکشن میں جو کچھ دیکھا گیا اس نے اس اعتماد کو شدید دھچکا پہنچایا۔
ترنمول کانگریس لیڈر نے انتخابات کے بعد تشدد کے واقعات پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پارٹی کے دفاتر پر حملے کیے جا رہے ہیں، کارکنوں کو ڈرایا جا رہا ہے اور بہت سے حامیوں کو گھر چھوڑنے پر مجبور کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں کسی سیاسی کارکن کو اپنی حفاظت اور سیاسی نظریے میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے پر مجبور نہیں کیا جانا چاہیے۔ ابھیشیک بنرجی نے کہا کہ وہ اور ان کی پارٹی جمہوری اقدار اور آئین کے تحفظ کے لیے لڑتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ترنمول کانگریس دہلی اور مغربی بنگال دونوں میں ایک مضبوط اور بیباک اپوزیشن کا کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ممتا بنرجی کی قیادت میں پارٹی بغیر کسی خوف اور سمجھوتہ کے جمہوریت، آئینی اقدار اور لوگوں کے حقوق کے لیے لڑتی رہے گی۔