بینگلورو، 19/اپریل ( ایس او نیوز): کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدرامیا نے ایک بار پھر ملک کے جنوبی حصے میں سپریم کورٹ کی بنچ قائم کرنے کا مطالبہ زور دے کر اٹھایا ہے۔
اطلاعات کے مطابق، وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سپریم کورٹ کی واحد مرکزی نشست نئی دہلی میں ہونے کی وجہ سے جنوبی ہندوستان کے عوام، وکلاء اور مقدمہ داروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ طویل فاصلے، بھاری اخراجات اور وقت کی ضیاع کے باعث انصاف تک رسائی متاثر ہوتی ہے، جو آئینی اصولوں کے خلاف ہے۔
سدارامیا نے زور دیا کہ عدالت عظمیٰ کی علاقائی بنچیں قائم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، تاکہ انصاف کی فراہمی کو مزید مؤثر اور عوام کے قریب بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی ریاستوں—جیسے کرناٹک، تمل ناڈو، کیرالہ، آندھرا پردیش اور تلنگانہ—کے لاکھوں افراد کو دہلی تک سفر کرنا پڑتا ہے، جو عام شہریوں کے لیے نہایت دشوار امر ہے۔
وزیر اعلیٰ نے اس معاملے میں مرکز سے فوری اقدام کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی کمیٹیوں اور قانونی ماہرین کی جانب سے بھی ماضی میں سپریم کورٹ کی علاقائی بنچوں کے قیام کی سفارش کی جا چکی ہے، مگر اب تک اس پر کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہوئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ملک میں مختلف ہائی کورٹس مختلف ریاستوں میں کامیابی سے کام کر سکتی ہیں، تو سپریم کورٹ کی بنچیں بھی مختلف خطوں میں قائم کی جا سکتی ہیں، جس سے نہ صرف عدالتی بوجھ کم ہوگا بلکہ انصاف کی بروقت فراہمی بھی یقینی بنے گی۔
سدارامیا نے اس مطالبے کو عوامی مفاد سے جوڑتے ہوئے کہا کہ یہ صرف ایک ریاست کا نہیں بلکہ پورے جنوبی ہندوستان کا مشترکہ مسئلہ ہے، جس کے حل کے لیے مرکز کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔