ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بھٹکل میں نیشنل ہائی وے فورلین منصوبہ پر پھر سوالات؛ نکاسیٔ آب کا نظام غیر واضح، عوام میں شدید تشویش؛ وزیر اور ڈی سی کا دورہ

بھٹکل میں نیشنل ہائی وے فورلین منصوبہ پر پھر سوالات؛ نکاسیٔ آب کا نظام غیر واضح، عوام میں شدید تشویش؛ وزیر اور ڈی سی کا دورہ

Thu, 14 May 2026 19:02:18    S O News
بھٹکل میں نیشنل ہائی وے فورلین منصوبہ پر پھر سوالات؛ نکاسیٔ آب کا نظام غیر واضح، عوام میں شدید تشویش؛ وزیر اور ڈی سی  کا  دورہ

بھٹکل، 14 مئی (ایس او نیوز): ساحلی کرناٹک میں مانسون کی آمد سے قبل بھٹکل میں جاری نیشنل ہائی وے فورلین تعمیراتی کام ایک بار پھر عوامی ناراضگی اور شدید خدشات کا سبب بن گیا ہے۔ شہریوں، سماجی کارکنان اور مختلف تنظیموں نے الزام لگایا ہے کہ ہائی وے اتھارٹی بارش کے پانی کی نکاسی کے لئے سڑک کے درمیان بڑے بڑے پائپ تو نصب کررہی ہے، لیکن ان پائپوں کے ذریعے پانی آخر کہاں منتقل کیا جائے گا، اس کا کوئی واضح منصوبہ موجود نہیں ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ اگر بروقت مناسب انتظام نہ کیا گیا تو آنے والے دنوں میں بھٹکل شہر کے کئی علاقے زیرِ آب آسکتے ہیں۔

بڑھتی عوامی شکایات اور ممکنہ سیلابی صورتحال کے خدشات کے پیش نظر جمعرات کو اُترکنڑا ضلع انچارج وزیر منکال وئیدیا نے بھٹکل میں نیشنل ہائی وے فورلین منصوبے کے مختلف مقامات کا معائنہ کیا۔ ان کے ساتھ ڈپٹی کمشنر لکشمی پریا، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ساجد مُلا، نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا کے پروجیکٹ ڈائرکٹر شیوکمار، اسسٹنٹ کمشنر جے مہیش، ڈی وائی ایس پی گریش  اور دیگر افسران بھی موجود تھے۔

bhatkal-NH-water-pipe-1

دورے کے دوران عوام نے وزیر کے سامنے سخت ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ رنگین کٹہ، نور مسجد کے سامنے، بس اسٹینڈ اور دیگر مرکزی مقامات پر سڑک کے بیچوں بیچ موٹے پائپ تو ڈالے جارہے ہیں، مگر ان کا آگے کوئی مناسب کنکشن یا ڈرینیج لائن موجود نہیں ہے۔ لوگوں نے سوال اٹھایا کہ جب بارش ہوگی تو یہ پانی آخر کہاں جائے گا؟ اگر پانی سڑک کنارے چھوڑ دیا گیا تو سروس روڈ والی جگہ  اور اطراف کے نشیبی علاقے تالاب میں تبدیل ہوجائیں گے اور قریبی دکانوں و مکانات میں پانی داخل ہونے کا شدید خطرہ پیدا ہوگا۔

مجلس اصلاح و تنظیم بھٹکل کے صدر عنایت اللہ شاہ بندری اور بھٹکل سٹیزن فورم کے صدر ستیش کمار نے وزیر کو بتایا کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے پاس نکاسیٔ آب کا کوئی جامع اور واضح خاکہ نظر نہیں آرہا۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ موجودہ طرزِ تعمیر مستقبل میں شہریوں کے لئے ایک بڑے بحران میں تبدیل ہوسکتا ہے۔ ان کے مطابق اگر پانی کی نکاسی کے لئے مستقل نظام قائم نہیں کیا گیا تو ہائی وے کے اطراف کے علاقے شدید متاثر ہوں گے۔

bhatkal-NH-mankal-3

وزیر منکال وئیدیا نے اپنے دورے کا آغاز موڈ بھٹکل بائی پاس سے کیا، جہاں مقامی افراد نے بتایا کہ نیشنل ہائی وے کے لئے زمین پہلے ہی حاصل کی جاچکی ہے اور متعلقہ افراد کو معاوضہ بھی ادا کیا جاچکا ہے، لیکن اس کے باوجود ہائی وے اتھارٹی نے نہ تو زمین اپنے قبضے میں لی ہے اور نہ ہی یہاں  ڈرینیج کا کام شروع کیا  گیاہے۔ عوام نے کوٹیشور روڈ کی صورتحال پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کئے گئے اور پانی کو نکلنے کا راستہ نہیں دیا گیا  تو وہاں لینڈ سلائیڈنگ جیسے خطرناک واقعات پیش آسکتے ہیں۔

نور مسجد اور بس اسٹینڈ کے سامنے جاری کام کا جائزہ لیتے وقت مقامی شہریوں نے وزیر کو بتایا کہ دونوں اطراف میں جو بڑے پائپ بچھائے جارہے ہیں، ان سے صرف پانی ایک جانب سے دوسری جانب منتقل ہوگا، مگر آگے نکاسی کا کوئی مستقل راستہ موجود نہیں ہے۔ لوگوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ مانسون شروع ہوتے ہی نیشنل ہائی وے کے اطراف کے علاقے پانی میں ڈوب سکتے ہیں۔

bhatkal-NH-mankal-1

صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے وزیر منکال وئیدیا نے نیشنل ہائی وے حکام کو فوری ہدایت دی کہ جہاں عارضی فلڈنگ کا خطرہ ہے وہاں جے سی بی مشینوں کے ذریعے فوری طور پر پانی کی نکاسی کے راستے بنائے جائیں اور پانی کو قریبی نالوں، ندیوں اور قدرتی گزرگاہوں کی طرف منتقل کرنے کا بندوبست کیا جائے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ یہ کام جمعہ ہی سے شروع ہوجانا چاہئے۔ انہوں نے یہ بھی ہدایت دی کہ شہر کے دیگر علاقوں میں پانی کو میونسپل نالیوں کی طرف موڑا جائے تاکہ وہاں سے قدرتی آبی گزرگاہوں تک نکاسی ممکن ہوسکے۔

اس موقع پر بھٹکل کے سابق کونسلر قیصر محتشم نے میونسپل انتظامیہ کی محدود صلاحیت پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ حال ہی میں نالیوں کی صفائی کے لئے 23 لاکھ روپے منظور کئے گئے ہیں، لیکن سٹی میونسپل کونسل کے پاس صرف آٹھ صفائی کارکن موجود ہیں۔ انہوں نے پوچھا کہ اتنے کم عملے کے ساتھ پورے شہر کی نالیوں کی صفائی کس طرح ممکن ہوگی۔

دورے کے دوران بھٹکل تنظیم کے جنرل سکریٹری عبدالرقیب ایم جے ندوی، نیشنل ہائی وے ہوراٹا سمیتی کے صدر راجیش نائک، بھٹکل سٹی میونسپل کونسل کمشنر بابا صاحب مانے، الطا ف کھروری ، اِمشاد مختصر سمیت مختلف سماجی کارکنان اور عوام کی بڑی تعداد بھی موجود رہی۔

 

Share: