بنگلورو، 14/ مئی (ایس او نیوز /ایجنسی) وزیرِ اعلیٰ سِدارامیا نے ’’نیٹ۔یو جی 2026‘‘ امتحان کی منسوخی پر سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے محض انتظامی ناکامی نہیں بلکہ ملک کے لاکھوں نوجوانوں کے ساتھ ’’بڑا دھوکہ‘‘ قرار دیا ہے۔
اپنے جاری کردہ بیان میں وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ ملک بھر میں 22 لاکھ سے زائد طلبہ نے اس امتحان میں شرکت کی تھی، جن میں کرناٹک کے ایک لاکھ سے زیادہ طلبہ بھی شامل ہیں۔ طلبہ نے کئی ماہ کی سخت محنت کے بعد امتحان دیا جبکہ والدین نے تربیت، سفر اور دیگر اخراجات پر بڑی رقم خرچ کی، لیکن مرکزی حکومت کے ایک فیصلے نے لاکھوں طلبہ کے مستقبل کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کردیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت نے 2024 میں ہی نیٹ امتحان کے نظام پر اعتراض جتاتے ہوئے اسمبلی میں قرارداد منظور کی تھی۔ اس وقت حکومتِ کرناٹک نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ یہ امتحان دیہی اور غریب طلبہ کے ساتھ ناانصافی کرتا ہے، ریاستی تعلیمی نظام کو کمزور بناتا ہے اور داخلوں کے معاملے میں ریاستوں کے اختیارات سلب کرتا ہے۔ وزیرِ اعلیٰ کے مطابق آج امتحان کی منسوخی نے ان خدشات کو درست ثابت کردیا ہے۔
سدارامیا نے الزام لگایا کہ تقرری امتحانات سے لے کر قومی سطح کے داخلہ امتحانات تک مسلسل پرچہ لیک کے واقعات وزیرِ اعظم نریندرمودی کی قیادت والی مرکزی حکومت کی ناکامی کا ثبوت ہیں۔ انہوں نے مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے فوری استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ معاملہ کی شفاف اور مقررہ مدت میں تحقیقات ہونی چاہئیں، خاطیوں کو سخت سزا دی جائے اور نئے امتحانی شیڈول کے بارے میں فوری وضاحت پیش کی جائے۔ ساتھ ہی ریاستوں کو داخلہ امتحانات منعقد کرنے کے اختیارات دوبارہ دینے پر بھی زور دیا۔
وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ ریاستی حکومت ہر متاثرہ طالب علم اور ان کے اہلِ خانہ کے ساتھ مکمل طور پر کھڑی ہے، اور طلبہ کی محنت اور مستقبل کو محفوظ بنانا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔